لمبی نہیں ہے ظلم کی عمر
حبیب جالبؔ
ہم اور اپنوں کے کیا پاس چھوڑ آئے ہیں
یہی کہ دہشت و افلاس چھوڑ آئے ہیں
ہماری قید سے لمبی نہیں ہے ظلم کی عمر
یہی حسین سا احساس چھوڑ آئے ہیں
کسی بھی شام نہ آئے گی مے کی یاد ہمیں
درِ قفس سے ادھر پیاس چھوڑ آئے ہیں
ہمارے ذکر سے خالی نہ ہو گی بزم کوئی
ہم اپنے ذہن کی وہ
باس چھوڑ آئے ہیں
چلے تھے جب تو نہ تھا رنگ یاس چہروں پر
دلوں میں ایک عجب آس چھوڑ آئے ہیں
Comments
Post a Comment